ایتھوپیائیوں کی ہندوستان پر حکمرانی: ایک تاریخی جائزہ
ایتھوپیائیوں کے ہندوستان کے ساتھ گہرے تعلقات تاریخی لحاظ سے اہم ہیں۔ قدیم دور میں ایتھوپیائیوں نے ہندوستان کے مختلف حصوں پر حکمرانی کی، اور اس دوران ان کی تہذیب و تمدن کا ہندوستانی ثقافت پر گہرا اثر رہا۔ ان ایتھوپیائیوں کو "ناگا" کہا جاتا تھا، جو نہ صرف ہندوستان میں آباد ہوئے بلکہ سنسکرت جیسی عظیم زبان کی تخلیق کا سہرا بھی ان کے سر باندھا جاتا ہے۔
قدیم ادب میں ناگا کا تذکرہ
دراوڑی ادب جو 500 قبل مسیح کا ہے، میں ناگا کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ یہ ادب ہمیں ناگا قوم کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی پہلوؤں کے بارے میں مفصل معلومات فراہم کرتا ہے۔ ہندوستانی روایات کے مطابق، ناگا نے مرکزی ہندوستان کو "ولاور" (تیر انداز) اور "مینوار" (ماہی گیر) سے فتح کیا۔
ناگا: ایک سمندری طاقت
ناگا سمندر پار تجارت میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔ وہ عظیم سمندری لوگ تھے جو ہندوستان، سری لنکا اور برما کے بیشتر علاقوں پر حکمرانی کرتے تھے۔ قدیم آریائی انہیں "آدھا انسان اور آدھا سانپ" کے طور پر بیان کرتے ہیں، جبکہ تمل ادب میں انہیں جنگجو قوم کہا گیا ہے جو تیر اندازی اور پھندا جیسے ہتھیاروں کا استعمال کرتے تھے۔
ناگا کا تاریخی ذکر: رامائن اور مہابھارت
ناگا کا ذکر قدیم ہندو مہاکاویوں، رامائن اور مہابھارت میں بھی ملتا ہے۔ مہابھارت کے مطابق، ناگا کا دارالحکومت دکن میں واقع تھا اور ان کے شہر جمنا اور گنگا کے درمیان واقع تھے۔ یہ علاقے 1300 قبل مسیح تک پھیلے ہوئے تھے۔ دراوڑی ادب کے کلاسک چلاپتھیکارم میں ناگا کی پہلی عظیم سلطنت "ناگانادو" کا ذکر واضح طور پر کیا گیا ہے۔
ناگا کی اصل: ایتھوپیا اور پنت
تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ناگا شاید کوش-پنت (ایتھوپیا) سے آئے تھے۔ پنت کے لوگ قدیم دنیا کے عظیم ترین ملاح سمجھے جاتے تھے، اور ان کے بارے میں تفصیلات مصری کتبوں میں بھی ملتی ہیں۔ مصری ریکارڈز میں پنت کی بندرگاہوں جیسے اوتکولیت، ہمیسو اور تکارو کا ذکر ملتا ہے، جو موجودہ دور میں عدولیس، حماسین اور ٹگری کے علاقوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
سومیریائی تحریریں اور ہندوستان-پنت تعلقات
سومیریائی تحریروں کے مطابق، پنت کے لوگ وادی سندھ کے لوگوں کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔ معروف محقق ایس این کرامر اپنی کتاب "دی سومیریانز" میں لکھتے ہیں کہ پنت کا ایک حصہ میلُہّا کہلاتا تھا اور دلمن شاید وادی سندھ کا پرانا نام تھا۔ آج کل کے ماہرین اس پر بحث کرتے ہیں کہ دلمن موجودہ عمان ہو سکتا ہے، جہاں کوئی قدیم شہر نہیں ملا، اور میلُہّا شاید وادی سندھ ہو۔
کبرا نگست اور ہندوستان پر ایتھوپیائی حکمرانی
قدیم ایتھوپیائی روایات، خصوصاً کبرا نگست، میں پنت یا ایتھوپیائیوں کی ہندوستان پر حکمرانی کے شواہد موجود ہیں۔ اس کتاب میں اروے بادشاہوں کا ذکر ہے جو ہندوستان پر حکمرانی کرتے تھے، اور اس خاندان کے بانی زا بیزی انگابو تھے۔ کبرا نگست کے مطابق یہ خاندان تقریباً 1370 قبل مسیح میں اپنے اقتدار کی بنیاد رکھتا ہے۔
حوالہ جات:
1. کرامر، ایس این. "دی سومیریانز"۔ مطبوعہ: ہارورڈ یونیورسٹی پریس، 1963۔
2. کبرا نگست (ایتھوپیائی روایات)، مترجم: والیس بڈج، ای اے۔ لندن: 1922۔
1. ایتھوپیائیوں کی ہندوستان پر حکمرانی
2. ناگا قوم کی تاریخ
3. پنت کی تجارت اور ہندوستان
4. رامائن اور مہابھارت میں ناگا
5. سومیریائی تحریریں اور میلُہّا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں