ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یوٹیوب /یوڈیمی/بلاگ سائٹس بھری پڑی ہیں ان سوالات کےجوابات پھر کوئی کیوں نہیں کامیاب یوٹیوبر بنتا اس کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ہر طرح کا مواد موجود ہے لیکن کون سامواد ہمارے لئے کتنا درست ہے اس کا تعین کرنا ہمارے لئے سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ یے جسکی وجہ سے ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے اس مسئلہ کو پچھلے پانچ سال اپنے جونئیر یوٹیوبرز پر بارہا حل کروانے اور درست نتائج لینے کے بعد اسے آپ عوام و قارئیں کے حضور پیش کیا جا رہا ہے تاکہ قارئین اس سے درست ترین راہنمائی حاصل کر سکیں تو جب آپ یہ تہیہ کر لیتے ہیں کہ کامیاب یوٹیوبر بننا ہے تو پھر پہلا مسئلہ کہاں پر آتا ہے اس کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے کچھ کے نزدیک اس کا آغاز کیٹگری
نیش
سب گیٹگری
درست مواد
چننا ڈھونڈنا پر اکتفاء کرتے ہیں
جبکہ میرابطور یوٹیوبر اس سے موقف جدا ہے میرا ماننا یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان اپنا انٹرسٹ اپنی دلچسپی دیکھے
کیونکہ
ہم جس کا م کو دلچسپی اور پوری توجہ سے کرتے ہیں اس کا رزلٹ کچھ اور ہوتا ہے اور پوری توجہ حاصل کرنے کے لئے دلچسپی بنیادی جزو یا جزولاینفک ہے اس بات کو اگر انسان سمجھ لے تو پھر کوئی بھی کام کرنا نہایت آسان واضح درست اور بہترین ہو جاتا ہے۔
سادہ زبان میں اسے خود احتسابی ،خود جائزگی ،تجزیہ ء نفسی یا خود تجرباتی بھی کہتے ہیں جب ہم یہ کر لیتے ہیں اور ہمیں اندازاء ذات ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں حقائق کو جاننے میں دیر اور دوری بالکل بھی نہیں لگتی
جیسے پاؤلو کوہلو نے اپنے کریکٹر سانتیاگو کو اتنی دور بھٹکایا صرف خود احتسابی اور جائزہ نفسی نہ کرنے کے سبب اس مضمون کو علامہ اقبال نے یوں باندھا ہے
کوئی قابل ہو تو شان ء کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیائیں بھی نئی دیتے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں